ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات :یوپی کی 10 سیٹوں پر مسلم امیدوار اتاریں گی مایاوتی!

لوک سبھا انتخابات :یوپی کی 10 سیٹوں پر مسلم امیدوار اتاریں گی مایاوتی!

Wed, 06 Mar 2019 21:25:13    S.O. News Service

نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی نے آنے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے اتر پردیش میں لوک سبھا انچارج کی فہرست جاری کی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ جو انچارج طے کئے گئے ہیں وہی لوک سبھا کے امیدوار ہوں گے۔مایاوتی نے چھ لوک سبھا سیٹوں پر مسلمانوں کو انچارج بنایا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ تعداد آنے والے دنوں میں بڑھ کر دس ہو سکتی ہے۔یوپی میں جن 38 سیٹوں پر بی ایس پی انتخابات لڑ رہی ہے، ان میں سے 10 سیٹیں مخصوص ہیں، جبکہ 28 سیٹیں عام ہیں۔بی ایس پی نے اپنے کوٹے سے ان 28 سیٹوں میں سے نو نشستیں برہمن امیدواروں کو دی ہیں،دیگر پسماندہ ذاتوں سمیت دوسری ذاتوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے بی ایس پی نے دس نشستیں چھوڑ دی ہیں جبکہ 9۔10 سیٹوں پر مسلم امیدواروں کو اتارنے کی تیاری ہے۔برہمنوں کو نو ٹکٹ دینا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ برہمنوں نے مایاوتی کو پہلے بھی ووٹ دیا ہے،اگرچہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دینے کے باوجود وہ مسلم ووٹ لینے میں کامیاب نہیں رہیں۔یوپی میں 19 فیصد مسلم ووٹر ہیں،2007 میں بی ایس پی اقتدار میں آئی تھی کیونکہ دلت، برہمن، دیگر اعلی ذات کے ایک طبقہ اور غیر یادو او بی سی جیسے پرجاپتی، سینی اور دیگر نے ان کی پارٹی کی حمایت کی تھی، لیکن مسلم سماج وادی پارٹی کے ساتھ بڑی حد تک ٹکے رہے تھے۔2012 میں، مایاوتی الیکشن ہار گئیں اور اپنا سماجی ڈھانچہ پھر سے تیار کرنے میں لگ گئیں،2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی انہوں نے کسی بھی دوسری پارٹی کے مقابلے میں زیادہ مسلمانوں کو ٹکٹ دیا۔بی ایس پی نے تب 19 مسلمانوں کو میدان میں اتارا جبکہ ایس پی نے 14 مسلمانوں کو ٹکٹ دیاتھا،تاہم، ان دونوں پارٹیوں کے ایک بھی مسلم امیدوار کو فتح حاصل نہیں ہوئی۔2017 کے اسمبلی انتخابات میں، بی ایس پی نے 99 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا، جبکہ ایس پی نے 62، اور کانگریس نے 18 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا،تاہم بی ایس پی کے 99 میں سے صرف پانچ مسلم ہی جیتے،2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے 19 سیٹیں جیتی تھیں۔دوسری طرف ایس پی کے ٹکٹ پر 17 مسلم ممبر اسمبلی جیتے تھے۔بی ایس پی کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ایک مضبوط مسلم لیڈر نہیں ہے۔پارٹی کے پاس نسیم الدین صدیقی کے طور پر ایک بڑا مسلم چہرہ تھا لیکن وہ بھی اب کانگریس کے ساتھ ہیں۔مایاوتی کے لئے ایک نئی مسلم قیادت قائم کرنا بھی ایک چیلنج ہے جو اپنے حلقہ سے مسلم ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔مختار انصاری اور ان کے بھائی افضل دو ایسے لیڈر ہیں، جن کا پروانچل کے بڑے حصے میں مسلم ووٹوں پر اثر ہے۔ایس پی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑ رہیں مایاوتی کے لئے مسلم ووٹروں کو لبھانے کا یہ سب سے اچھا موقع ہے۔


Share: